Showing posts with label urdu news. Show all posts
Showing posts with label urdu news. Show all posts

Saturday, June 27, 2009

Kenia News

کینیا میں ریکارڈ پناہ گزین کیمپ بن گیا،اقوام متحدہ
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کینیا میں قائم کیمپ دنیا کا سب سے بڑا رفیوجی کیمپ بن چکا ہے اور صومالیہ سے روزانہ پانچ سو سے زائد بھوکے افراد اس کیمپ کا رخ کررہے ہیں۔ صومالیہ کے بارڈر کے قریب واقع کینیا کے داداب رفیوجی کیمپ میں اس وقت دو لاکھ اسی ہزار مہاجرین پناہ گزین ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارے نے اڑتیس ہزار مہاجرین کی مزید رجسٹریشن کی ہے اور صومالیہ میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے روزانہ ہزاروں افراد یہاں کا رخ کررہے ہیں۔ یورپی یونین کے انسانی امداد کے علاقئی افسر کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں سب سے بڑا مسئلہ صاف پانی کی عدم دستیابی ہے جس کی وجہ سے دیگر مسائل پیدا ہورہے ہیں۔کینیا میں جاری نسلی فسادات اور بڑھتی ہوئی بھوک نے ہزاروں افراد کو ان کیمپوں کا رخ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ مئی میں ہونے والی شدت پسندوں کی جھڑپوں میں دو سو پچیس سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔ جبکہ دارالحکومت موگا دیشو میں ایک لاکھ ستر ہزار سے زئد افراد بے گھری پر مجبور ہوئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان مہاجرین کے لئے کوئی دیرپا حل تلاش کررہی ہے۔

Monday, June 15, 2009

Bait Ullah Mehsood K Khilaf Karrwayee...!

بیت اللہ محسود کے خلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ


گولہ باری کے بعد فوج شاید پیشقدمی بھی کرے

پاکستان میں صوبہ سرحد کے گورنر اویس غنی نے کہا ہے کہ فوج کو طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تاہم پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں کارروائی شروع بھی ہو چکی ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ایک دن پہلے ہی فوجی کارروائی شروع ہو گئی تھی اور پہلے دن وہاں کوٹکی، مکین اور دوسرے علاقوں میں کافی بمباری ہوئی ہے جو بیت اللہ محسود کے گڑھ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ انہوں نے بیت اللہ کے دس بارہ ساتھیوں کو مار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں ایک فوجی چھاؤنی سے جنوبی وزیرستان میں گولہ باری ہوئی ہے اور اس کے بعد شاید فوج ان علاقوں میں پیش قدمی بھی کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے دو بار بیت اللہ محسود کے خلاف کارروائی ہو چکی ہے اور دو بار ہی ان کے ساتھ امن معاہدے بھی ہوئے ہیں۔

وزیرستان میں فوجی کارروائی کے بارے میں بیانات اور اس امکان کو سمجھتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں اور بے گھر ہو گئے ہیں

۔

ایک سوال کے جواب میں رحیم اللہ یوسفزئی نے بتایا کہ پہلے جب کارروائی ہوئی اس میں بھی بیت اللہ کا نقصان تو ہوا تھا لیکن ان کا کوئی اہم کمانڈر نہیں مارا گیا تھا اور حکومت نے مجبوراً ان سے امن معاہدہ کیا تھا۔

انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اب بھی بیت اللہ محسود کے قبضے میں سرکاری اہلکار ہوں گے جنہیں انہوں نے اغوا کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی وہ ایسے اغوا شدہ لوگوں کو اپنے قیدی رہا کروانے کے لیے اور حکومت سے رقم وصول کرنے کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔

رحیم اللہ نے کہا کہ اس فوجی آپریشن کے دوران کئی مراحل آئیں گے جن میں فوج اپنا کام کرے گی اور بیت اللہ محسود کی جانب سے جوابی کارروایاں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن اچانک شروع نہیں کیا گیا بلکہ دو ہفتے پہلے بھی ملک کے صدر آصف زرداری کا بیان آیا تھا کہ سوات کے بعد ان علاقوں میں کارروائی ہو گی اس لیے اچانک حملے والی بات تو ختم ہو گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وزیرستان میں فوجی کارروائی کے بارے میں بیانات اور اس امکان کو سمجھتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں اور بے گھر ہو گئے ہیں.
Thanx To BBCURDU